ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جامعہ کے بعد اب دہلی کے سلیم پور اورجعفر آباد میں CAA کے خلاف سخت احتجاج، آتشزدگی اور لاٹھی چارج کے بعد حالات پر پایا گیا قابو

جامعہ کے بعد اب دہلی کے سلیم پور اورجعفر آباد میں CAA کے خلاف سخت احتجاج، آتشزدگی اور لاٹھی چارج کے بعد حالات پر پایا گیا قابو

Tue, 17 Dec 2019 18:57:50    S.O. News Service

نئی دہلی 17ڈسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی): شہریت ترمیمی قانون (سٹی زن امینڈمینٹ ایکٹ) کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی سمیت دیگراحتجاج کررہے طلبا پر پولس کے حملوں کے بعد اب شمال مشرقی دہلی کے سیلم پور اور جعفرآباد علاقے میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے متعلقہ ایکٹ کے خلاف شدید مظاہرہ کیا جو بعد میں تشدد میں تبدیل ہوگیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے شہریت کے قانون کو واپس لیا جائے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مظاہرے کے دوران متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ جبکہ پتھراؤ کے نتیجے میں کچھ پولس اہلکار اورلاٹھی چارج میں کچھ مظاہرین زخمی ہو گئے۔ تاہم، اب صورتحال قابو میں بتائے گئے ہیں  پولس کا کہنا ہے کہ احتجاجیوں کو جائے وقوع سے ہٹا دیا گیا ہے، دہلی میٹرو کا سیلم پور اسٹیشن کئی گھنٹوں تک بند رکھے جانے کے بعد سروس بحال کردی گئی ہے۔

قبل ازیں، پولس کی جانب سے بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ احتجاج کی وجہ سے سیلم پور تا جعفرآباد روڈ کو بند کر دیا گیا تھا۔ مشتعل ہجوم نے کئی بسوں میں توڑ پھوڑ کی۔ جس کے بعد پولس نے پورے علاقے کو اپنے محاصرہ میں لیکر کارروائی شروع کر دی ۔ احتجاج کی وجہ سے سیلم پور، جعفرآباد، ویلکم ، موج پور، بابرپور، گوکلپوری سمیت متعدد میٹرو اسٹیشنوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سیلم پور میں احتجاج ایک بجے شروع ہوا۔ احتجاجیوں میں سے کئی لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں ترنگا لے رکھا تھا اور نئے شہریت قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مظاہرہ پُر تشدد ہو گیا۔ اس کے بعد پتھراؤ بھی کیا جانے لگا، پولس نے مظاہرین کو اہم سڑک سے گلیوں میں کھدیڑ دیا۔

بتایا گیا ہے کہ پولس نے کئی لوگوں نے پتھراو کرنے کے الزام میں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اضافی پولس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ ڈرون کیمرے کے ذریعے پورے علاقے میں نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق، مظاہرہ دوپہر 2 بجے کیا جانا تھا، جس کے لئے لوگ جمع ہورہے تھے، مگر وقت سے پہلے ہی بھیڑاس قدر جمع ہو گئی کہ قابومیں کرنا مشکل ہوگیا۔


Share: